غلام حسین ساجد ۔۔۔ چراغِ شام نے سایے کو خیر باد کہا

چراغِ شام نے سایے کو خیر باد کہا
تو مَیں نے مطلعِ نورِ سحر نژاد کہا

جو مِل گیا اُسی انعام پر قناعت کی
جو ہاتھ آیا اُسی کو گُلِ مراد کہا

کسی کے حُسن کی تعریف کر رہا تھا مَیں
مگر وہ بھول گیا ہوں جو اُس کے بعد کہا

کسی کی مدح سرائی سے کچھ غرض رکھّی
نہ مَیں نے ایک بھی مصرع برائے داد کہا

متاعِ عشق کی تعظیم کرنے والوں کو
خدا کا شُکر کسی نے تو خوش نہاد کہا

بہت اُداس رہے میرے جسم و جاں ساجدؔ
کسی نے خاک کو جب باعثِ عناد کہا

Related posts

Leave a Comment